27-10-2017

سپریم کورٹ نے مسلم فیملی قوانین میں ترمیم سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے ، جہیز ، وراثت اور طلاق سمیت دیگر معاملات پرہر فرقہ کےلئے مناسب قانون سازی ہونی چاہیئے ۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے دائر درخواست کی سماعت کی جس میں بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ مقننہ کو قانون سازی کی ہدایت کیسے کر سکتی ہے ، سپریم کورٹ کا کام قانون کی تشریح کرنا ہے جبکہ آئین ہر فرقے کے حقوق کو تحفظ دیتا ہے ۔

فاضل عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر دائر درخواست نمٹا دی ۔