30-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں واقع مساجد کو محکمہ اوقاف کے حوالے کرنے کےلئے دائر رٹ درخواست پر ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا سے جواب طلب کر لیا ہے

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے صوبہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پانچ سو سے زائد علماء کرام کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ دین اسلام میں مساجد انتہائی اہمیت کی حامل جگہ ہے جہاں تمام مسلمان پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی کے لئے آتے ہیں اس بناء حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان مساجد کو باقاعدہ طور پر حکومت اپنی نگرانی میں لے تاکہ یہاں پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کےبچوں کو منظم طور پر دینی علم سے روشناس کرایا جائے ۔ اسی طرح اسلام ، دینی مراکز اور اسلامی ثقافت کے تحفظ کی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس حوالے سے مساجد بنیادی ادارے ہیں اور حکومت کو چاہیئے کہ مساجد کو مزید مضبوط بنایا جائے اور منظم طریقے سے نگرانی کی جائے جس طرح کہ سعودی عرب میں مساجد حکومتی نگرانی میں ہوتی ہیں جس سے مذہبی منافرت روکی جا سکتی ہے ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ صوبائی حکومت کو اس حوالے سے ہدایات جاری کرے کیوںکہ یہ حکومتی پالیسی سے متعلق امور ہے لہذا اس حوالے سے درخواست گزار کے وکیل عدالت کی معاونت کریں ۔ ان آبزوریشن کے ساتھ فاضل عدالت نے رٹ درخواست پر سماعت ملتوی کردی اور ایڈوکیٹ جنرل سے جواب طلب کر لیا۔