25-04-2018

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ عوام کو ذہنی،معاشی اور اخلاقی طور پر غلام بنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل انعام الرحیم ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس سے رپورٹ کے حصول کی درخواست دی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقاتی رپورٹ کو عدالتی حکم پر سیل کیا گیا ہے، میرے اوپر پہلے ہی 6 ریفرنس دائر ہیں آپ چاہتے ہیں ساتواں بھی ہو جائے۔

دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ دنیا بھر میں کوئی فوج کمرشل سرگرمیوں میں شامل نہیں۔ عوام کو ذہنی، معاشی اور اخلاقی طور پر غلام بنا دیا گیا ہے۔جلد سیکرٹری دفاع کو نوٹس جاری کرکے اس حوالے سے جواب طلب کریں گے، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرکے رپورٹ پبلک کرنے سے متعلق جواب طلب کر تے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔