11-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے 2011ء کے بعد غیر قانونی طور پر آؤٹ آف ٹرن سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کو کالعدم قرار دے دیا ہے تاہم اس فیصلے کا اطلاق ریٹائر‘ دوران ملازمت وفات پانے والے ملازمین اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کیلئے مختص گھروں پر نہیں ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد جنہوں نے عدالتی حکم کے ذریعے تحفظ حاصل کیا ہے وہ بھی اس فیصلے کی زد میں نہیں آئیں گے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ احکامات مختلف سرکاری ملازمین کی جانب سے ان کی سنیارٹی نظر انداز کرکے منظور نظر افراد کو سرکاری رہائش گاہیں آلاٹ کرنے  کےخلاف دائر رٹ پٹیشنز کی سماعت  پر جاری کئے۔

عدالت نےصوبائی حکومت کو یہ ہدایت  بھی  جاری کی  وہ اس حوالے سے کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کرے اور جو لوگ غیر قانونی طور پر مقیم ہیں انہیں گھروں سے بے دخل کرکے حقداروں کو ان کا حق دیا جائے تاہم کمیٹی کے حتمی فیصلے تک کسی کو بھی بے دخل نہیں کیا جائے گا