25-04-2018

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ  بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ڈسٹرکٹ بار مانسہرہ کا مختصردورہ کیا اور بار سے خطاب کرنے کے بعد بالا کوٹ چلے گئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا مجھے معلوم ہے یہاں کوئی سکول اور ہسپتال فعال نہیں، بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرونگا۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ میں زلزلہ متاثرین فنڈز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے استفسار پر وزارت خزانہ کے نمائندہ نے بتایا کہ زلزلہ متاثرین کیلئے بیرون ملک سے دو ارب 89 کروڑ ڈالر امداد آئی۔چیف جسٹس نے کہا معلوم ہونا چاہیے کہ امداد میں مجموعی طور پر کتنا پیسہ جمع ہوا، متاثرین کیلئے بیرونی امداد کسی دوسری جگہ استعمال کرنا جرم ہے۔

چیف جسٹس نے کہا بالاکوٹ میں ابھی تک لوگ بغیر چھت کے رہ رہے ہیں، ایرا کے نمائندہ نے بتایا وہاں زمین کا قبضہ مل جائے تو دو سال میں منصوبے مکمل ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کیا غریب لوگ دو سال تک کھلے آسمان تلے رہیں گے ؟ چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو بالا کوٹ پہنچنے کا حکم دیا اور براستہ موٹروے بالاکوٹ روانہ ہوگئے۔