23-04-2018

سپریم کورٹ نے میرٹ کے برعکس سرکاری یونیورسٹیز کے متعدد وائس چانسلرز کو استعفے دینے کی ہدایت کرتے ہوئے نئی سرچ کمیٹیاں قائم کر کے وائس چانسلرز کی جلد تعیناتیاں کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سرکاری یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کی میرٹ کے برعکس تعیناتیوں کے کیس کی سماعت کی ۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ سینئر لوگوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا، پنجاب یونیورسٹی میں اڑھائی سال سے مستقل وائس چانسلر کیوں تعینات نہیں کیا گیا۔ سیکرٹری ہائیرایجوکیشن نے اگست تک وقت مانگاتوچیف جسٹس نے کہا کہ اتنا متعصب ڈی ایم جی افسر میں نے نہیں دیکھا، جو سیاسی حکومت کا ہر لحاظ سے دفاع کر رہا ہے،عدالت نے سیکرٹری ہائیرایجوکیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر 6ہفتوں میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی نہ ہوئی تو ذاتی طور تم ذمہ دار ہو گے۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس لاہور کالج فار وویمن یونیورسٹی میں میرٹ کے برعکس تعینات وائس چانسلر عظمی قریشی کو معطل کردیا اور سینئر ترین پروفیسرز میں سے ایک کو قائم مقام وی سی تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ۔