05-06-2018

پشاورہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ خان اورجسٹس مسرت ہلالی پرمشتمل دو رکنی بنچ نے خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے ورکرزویلفیئربورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں میڈیکل الائونس کی بندش کے احکامات معطل کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

فاضل عدالت نے1290ملازمین ورکرز ویلفیئربورڈکی جانب سے دائر  رٹ پٹیشن  کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایاگیاکہ درخواست گزار ورکرزویلفیئربورڈ میں تعینات ہیں اور4 مارچ 2018ء کو سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ نے ایک حکمنامہ جاری کیا جس کے تحت ملازمین کو تنخواہوں میں ملنے والامیڈیکل الاونس بند کردیاگیا  حالانکہ  میڈیکل الاونس سروس رولزکاحصہ ہے جو تمام سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں ادا کیاجاتاہے اورسیکرٹری کویہ اختیارحاصل نہیں کہ وہ ملازمین کامیڈیکل الاونس بند کرے۔

 عدالت  نے ابتدائی دلائل کے بعد سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ  کے احکامات معطل کرتے ہوئے میڈیکل الاونس  بحال کرنے  جبکہ سیکرٹری قانون اورسیکرٹری ورکرزویلفیئربورڈ سے اس ضمن میں جواب طلب کرلیا ۔