06-04-2018

 پشاور ہائی کورٹ میں صوابی جیل میں قیدیوں کی سکریننگ ٹیسٹ کرکے بیمارقیدیوں کی تعداد اور صوبے میں قیدخواتین کے بچوں کی تعلیم و تربیت بارے معلومات کرنے کے لیے رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔

 درخواست گزار سجاد احمد کی جانب سے دائر  رٹ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار ایک ناکردہ جرم میں پندرہ سال تک جیل میں رہا اور بعد میں سپریم کورٹ نے انہیں بری کردیا تھا۔ انہوں نے قید کے ان پندرہ سالوں جیلوں کی بہت بری حالت دیکھی ہے اور ہر جیل میں مقررہ تعداد سے زیادہ قیدیوں کو رکھا جاتا ہے ۔

 رٹ درخواست کے مطابق کچھ عرصہ قبل ان کو معلوم ہوا ہے کہ صوابی جیل کے اندر کچھ مریضوں کو ایڈز کی بیماری ہے جبکہ ان کی بیماری کا علاج کرنے کے لیے جیلوں میں کوئی انتظامات نہیں ۔ جیلوں میں خواتین کی تعداد بھی مقررہ حد سے زیادہ ہوتی ہے جبکہ ان کے پاس بچے بھی ہوتے ہیں لیکن ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی ناقص ہے۔ لہذا عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مریض قیدیوں کی سکریننگ ٹیسٹ کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں، قید خواتین کے بچوں تعلیم و تربیت بارے معلومات کرنے اور گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو جیل میں رکھنے کے لیے صوبائی حکومت کو احکامات جاری کئے جائیں۔ رٹ پٹیشن میں صوبائی سیکرٹری داخلہ ، انسپکٹر جیلخانہ جات خیبر پختونخوا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔