17-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ڈین خیبر میڈیکل کالج کا عہدہ انتہائی ذمہ دار اور اہم ہے اور کسی بھی عہدے کےلئے انٹرویو کے عمل میں شفافیت پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ان آبزرویشن کے ساتھ  ہی خیبر میڈیکل کالج کے ڈین کی نشست کےلئے امیدوار ڈاکٹر مصطفی اقبال کا انٹرویو دوبارہ کرنے ، انٹرویو کے طریق کار میں شفافیت کو ہر قیمت پر یقنی بنانے اور ہر امیدوار کے نمبر میرٹ لسٹ کی شکل میں آویزاں کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ۔

دائر رٹ پٹیشن میں عدالت کوبتایا گیا کہ ڈین کی نشست کےلئے سب سے پہلے تو اشتہار ہی غلط دیا گیا جو قانون کے مطابق نہیں جبکہ انٹرویو لینے کےلئے بنائی گئی کمیٹی بھی آئین کے تحت مروجہ قوائد و ضوابط پر پوری نہیں اترتی جس سے اس عمل کی شفافیت متاثر ہوئی ہے ۔ اسی طرح انٹرویو کےلئے میرٹ لسٹ ضروری ہے جو کہ نہیں لگائی گئی ۔

عدالت نے خیبر میڈیکل کالج انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی کہ درخواست گزار کا انٹرویو دوبارہ لیا جائے اور انٹرویو کے طریق کار میں شفافیت کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے ۔ عدالت نے ہر امیدوار کے نمبر میرٹ لسٹ کی شکل میں آویزا ں کرنے کا حکم بھی دیا ۔